بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو نقد رقم کا ہبہ کرنا


سوال

میرے والد صاحب جو کے چند دن پہلے بقضائے الہی وفات پا گئے ہیں، انہوں نے دو تین سال پہلے اپنی تمام نقد رقم میری والدہ (ان کی بیوی) کی رقم کے ساتھ ملادی تھی اور پانچ چھ دفعہ ہم سب بہن بھائیوں کے سامنے یہ کہا کہ  یہ سب مال میں نے تمہاری ماں کو دے دیاہے۔ اب کیا یہ رقم ہم ان کے ترکے میں شامل کریں گے یا یہ میری والدہ کا حصہ ہے؟  میرے ایک بھائی کا کہناہے کہ یہ میرے والد صاحب ویسے ہی کہہ کر گئے تھے، اصل میں نہیں دے کر گئے تھے، ان کو ترکے میں شامل کرو۔  جواب دے کر راہ نمائی فرمائیں!

جواب

جب آپ کے والد وہ رقم خود ان کو دے کر گئے ہیں اور اپنی رقم آپ کی والدہ کی رقم کے ساتھ ملادی تھی اور آپ  لوگوں کو اس کے بارے مٰیں اطلاع بھی دی ہے تو وہ تمام رقم آپ کی والدہ کی ہے، ترکہ مٰیں شمار نہ ہوگی۔

 ص 702  شامی ج6:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الکامل"... فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200489

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے