بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1440ھ- 21 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو نہیں رکھ سکتا، اپنی زندگی سے نکالتاہوں اور میری طرف سے فارغ کہنے کا حکم


سوال

میں نے آج سے بیس دن پہلے اپنے والدین اور اپنی ساس کے سامنے بولا کہ میں اب اپنی بیوی شہنیلا کو نہیں رکھ سکتا،  میری زندگی سے نکالتا ہوں ، اپنی زندگی سے نکالتا ہوں، میری طرف سے فارغ   تین بار کہا، اس وقت میری بیوی سامنے موجود نہیں تھی ، مجھے اس کا بتائیں کہ طلاق ہوگئی ؟ اس کا اب کوئی حل ہے، ہم اب بھی ساتھ رہ رہے ہیں ، میرے دو بچے بھی ہیں  ایک سات سال کا بیٹا اور ایک پانچ سال کی بیٹی، اب کیا حل ہے اس کا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر آپ نے اپنے والدین اور ساس کے سامنے  مذکورہ الفاظ، طلاق کی نیت سے کہے تھے یا مذاکرہ طلاق میں کہے تو  اس سے آپ کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی اور نکاح ختم ہوگیا ،  اور نکاح ختم ہونے کے بعد دوبارہ ان  الفاظ کی ادائیگی سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اب اگر دونوں میاں بیوی  باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے مہر اور شرعی گواہان کے روبرو  دوبارہ عقد کرنا پڑے گا، اور آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار  ہوگا۔

 اور اگر  آپ نے طلاق کی نیت  نہیں کی تھی  اور نہ ہی مذاکرۂ طلاق  تھا تو اس صورت میں مذکورہ جملے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال)، وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.

(قوله: وهي حالة مذاكرة الطلاق) أشار به إلى ما في النهر من أن دلالة الحال تعم دلالة المقال قال: وعلى هذا فتفسر المذاكرة بسؤال الطلاق أو تقديم الإيقاع، كما في اعتدي ثلاثاً وقال قبله المذاكرة أن تسأله هي أو أجنبي الطلاق".(3/296،297، باب الکنایات، ط: سعید)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام محتمل". (6 / 72،باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق،ط؛دار المعرفة - بيروت)

     فتاوی شامی میں ہے:

" (لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخباراً عن الأول كأنت بائن بائن، أو أبنتك بتطليقة فلا يقع؛ لأنه إخبار، فلا ضرورة في جعله إنشاء.

(قوله: لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية؛ لأنه هو الذي ليس ظاهراً في إنشاء الطلاق، كذا في الفتح".(3/308، باب الکنایات، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200369

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے