بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیوہ کا بجائے بھائی کے گھر کے، دیور کے گھر رہنا


سوال

ایک عورت جس کی عمر چالیس سال ہے، بیوہ ہوگئی ہے، بے اولاد ہے، اس عورت کے خاوند کے مرنے کے بعد دیوروں کے گھر رہنے میں دینی ماحول کے حوالے سے کئی فوائد ہیں، مثلا: اس کی ہر لحاظ سے حفاظت ہے، اور پردے کے ساتھ ساتھ ضروریات کی کفالت بھی بہتر انداز سے ہوسکتی ہے، جب کہ ان کے اپنے بھائیوں کے گھر میں دینی ماحول کی پابندی نہیں ہے، اکثر بھائی صوم وصلاۃ کے پابند بھی نہیں ہیں، تو عورت کے لیے مستقبل میں دین کے ماحول کو باقی رکھنا بہت مشکل ہے، اس صورت میں یہ عورت دیوروں کے ساتھ گھر میں خاوند کی وفات کی عدت کے بعد زندگی گزارے تو شرعی اعتبار سے کوئی حرج تو نہیں ہے؟ اور یہ فیصلہ بیوہ بغیر کسی جبر، اپنے اختیار سے کر رہی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں اگر پردہ اوردیگر شرعی حدود کی رعایت ممکن ہے تو بیوہ  مذکورہ گھر میں رہ سکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143510200034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے