بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کے پیسوں سے دعوت


سوال

اگر کوئی شخص بینک میں نوکری کرتا ہے  اور وہ دعوت کرے  اپنے رشتہ داروں کی  تو کیا  اس  کے ہاں جانا چاہیے،جب کہ بینک کا پیسہ اس کی  دعوت میں استعمال  ہورہا ہے؟

جواب

بینک کی کمائی حلال نہیں ہے۔ اس کمائی  سے جو دعوت کی جائے گی اس میں جانا اور وہ کھانا کھانا  بھی جائز نہیں ہے ؛اس لیے ان سے اچھے انداز میں معذرت کرلیں ۔

واضح رہے کہ اگر  کسی کی اکثر کمائی حلال ہو اور کچھ حصہ بینک کی کمائی کا بھی ہو  ، یا اکثر کمائی حرام ہو لیکن یہ معلوم ہو کہ اس دعوت  میں حلال پیسہ لگایا جارہا ہے تو اس دعوت کو قبول کرنا جائز ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 342)

'' أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم''۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں