بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کے اوپر بنی ہوئی مسجد میں نماز پڑھنا


سوال

ایک مارکیٹ ہے جس میں یو بی ایل بینک بھی ہے اور بینک کے اوپر مسجد بنائی ہے ، مارکیٹ کے مالک نے باربار بینک ہٹانے کی درخواست بھی دی،لیکن اب تک بینک نہیں ہٹا ہے۔تو کیا اس مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے، مارکیٹ میں صرف بینک کے اوپر مسجد بننے سے اس مسجد میں نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں آئے گی،کیوں کہ بینک نیچے ہے اور مسجد الگ ہے اور بینک کی ملکیت بھی نہیں ہے، تاہم چوں کہ یہ شرعی مسجد نہیں ہے؛ اس لیے جامع مسجد میں نماز پڑھنے کا جتنا ثواب ہے وہ اس میں نہیں ملے گا، اس لیے جامع مسجد میں جاکر نماز پڑھنے کو ترجیح دینا چاہیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200652

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے