بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کی ملازمت اور آمدنی کا حکم


سوال

کیا اسلام میں بینک کی نوکری کرنا جائز ہے؟ اسلامی شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ کیا اس کی ذریعے کمائی گئی روزی حلال ہے یا نہیں؟

جواب

بینک کی آمدن میں سود اور ناجائز منافع کا غلبہ ہوتاہے، نیز سودی اور ناجائز معاملات میں تعاون بھی ہوتا ہے۔ اس لیے بینک کی ملازمت جائز نہیں ہے،اور اس ملازمت سے ملنے والی آمدن حرام ہے۔کسی جائز ذریعہ سے ملازمت تلاش کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں