بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک کو کرسیاں فروخت کرنے والی کمپنی میں ملازمت کرنا


سوال

میں آفس کی کرسیاں بنانے والی کمپنی کے اکاؤنٹ کے شعبہ میں کام کرتا ہوں ، اور ہم کرسیاں ملک کے کافی بینکوں کو  فروخت کرتے ہیں،  آپ واضح کردیجیے کہ میرا  یہاں کام کرنا کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے مذکورہ کرسیاں بنانے والی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 235):
"توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالاً من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولاً ثم اشترى منه بها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقاً ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية؛ فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفاً فاشترى بها جاريةً وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي؛ دفعاً للحرج عن الناس اهـ. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها، وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي؛ دفعاً للحرج؛ لكثرة الحرام اهـ وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعاً للدرر وغيرها".
  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200359

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے