بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینے کا حکم


سوال

1.اگر کوئی بینک کے ذریعے گھر خریدے تو آیا اس کا کیا حکم ہے؟ 

2. اگر ناجائز ہے تو جواز کی کوئی صورت ؟

3. اور زیادہ پیسے دینا سود کے زمرہ میں تو نہیں آئے گا؟

4. نیز دارالعلوم کراچی والوں کا اس بارے میں کیا فتوی ہے؟

5. اور جواز کی صورت میں کن کن بینکوں سے یہ معاملہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب

1. بینک کے ذریعہ گھر خریدنا جائز نہیں ہے۔

2.  جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کسی سے بلا سودی قرضہ حاصل کر لے۔

3.اگر قرض پر زیادہ نفع دیا جائے تو حقیقی سود ہے ور نہ معنوی سود ہے۔

4. دارالعلوم کراچی والوں کا فتویٰ اُن ہی سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔

5. ہمارے علم کے مطابق فی الوقت ایسا کوئی بینک نہیں ہے جو اسلامی اصول و ضوابط پر پورا اترتا ہو؛ لہذا کسی بینک سے بھی ایسا معاملہ کرنا جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں