بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک سے ایڈوانس سیلری لینے کا حکم


سوال

بینک جو ایڈوانس سیلری دیتی ہے، ملازمین کو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

''ایڈوانس سیلری'' سے مراد وہ  قرضہ جات ہیں جو مختلف بینک اپنے اپنے اصولوں کے مطابق اپنے ملازمین کوایڈوانس سیلری کے نام سے  فراہم کرتی ہیں،اور بعد ازاں وہ قرضہ جات سود کے ساتھ واپس لیتی ہیں، ان قرضہ جات کا حصول اور ان پر سود کی ادائیگی جائز نہیں ہے۔نیزنفسِ مسئلہ سےقطع نظر بینک کی ملازمت کرنا اور بینک سے تنخواہ وصول کرناہی شرعاً جائز نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143909200905

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں