بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک اکاؤنٹ لھلوانا


سوال

کیا عام سرکاری بنک میں اپنا پیسہ (رقم) کسی مخصوص مدت تک جمع کر نا اس نیت پر جائز ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد اپنی  رقم یعنی اصل زر بغیرسود واپس نکالا جائے،  اور کیا سیونگ بنک کھاتہ میں رقم رکھنا جائز ہے؟

جواب

بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں  رقم رکھوانا جائز ہے، تاہم سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں، اگرچہ سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے میں نیت یہ ہو کہ سود کی رقم نہیں لے گا، صرف اصل رقم لے گا، کیوں کہ جس طرح سود حرام ہے، سودی معاہدہ کرنا بھی حرام  ہے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143907200085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے