بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیماری کی حالت میں بھائی یا بیٹا زیر ناف بال کاٹ سکتا ہے یا نہیں؟


سوال

والد صاحب بیمار ہے اور والدہ بھی زندہ نہیں ۔کیا  ان کے زیرِ  ناف بال بیٹا یا بھائی صاف کر سکتا ہے؟اس طرح بیٹی والدہ کے زیر ناف بال صاف کر سکتی ہے؟

جواب

اگر والد صاحب اس قدر بیمار ہوں کہ بیماری کی وجہ سے اپنے زیر ناف بال بھی خود سے صاف نہ کرسکتے ہوں اور بیوی بھی زندہ نہ ہو   اور بالوں کے بڑے ہونے کی وجہ سے اذیت ہو تو  مجبوراً  بھائی یا بیٹا ہاتھوں پر دستانے (میڈیکل گلوز وغیرہ )  چڑھاکر (جس سے اعضاء کی جسامت حتی الامکان محسوس نہ ہو) شرم گاہ پر نظر ڈالے بغیر کسی کریم وغیرہ سے ان کے زیر ناف بال صاف کرسکتے ہیں،  شرم گاہ کی طرف دیکھنے کی اجازت پھر بھی نہیں ہوگی۔

یہی حکم بیٹی کے لیے والدہ کے زیرِ ناف بالوں کی صفائی کے سلسلے میں ہوگا کہ اگر شوہر زندہ نہیں ہے، اور عورت کسی طرح بھی کریم وغیرہ سے بال صاف نہیں کرسکتی تو بیٹی  والدہ کے بال مذکورہ طریقے سے صاف کرسکتی ہے۔

البتہ مخالف جنس ہونے کی صورت میں بیٹے یا بیٹی کے لیے والدہ یا والد کے زیرِ ناف حصے کو چھونا بھی جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے