بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بہن کا میراث میں حصہ


سوال

 میرے والد مرحوم نے جائیداد تقسیم کی، میری کوشش کے باوجود بھائی نے بہن  کا حصہ نہیں  نکالا. اس کو حج کرانا ہمارے ذمے لگایا. لیکن مجھے یہ درست معلوم نہیں ہوتا. اب ہم چار بھائی ایک بہن ہیں. انتقالات ہوچکے ہیں. اب میں اپنے حصے جائیداد سے بہن کو کتنا حصہ دے دوں تاکہ میرے حصے سے میراث نکل جائے. مثلاً: اگر مجھے بیس کنال مزروعہ اور سو کنال جنگل ملا ہے تو؟ برائے کرم مجھے جتنا جلد ممکن ہو جواب مرحمت فرمائیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر والد صاحب نے اپنی زندگی میں یہ غیر منصفانہ تقسیم کی تھی کہ اپنی بیٹی کوکچھ نہیں دیا تھا تو  اس غیر منصفانہ تقسیم کا وبال والد صاحب پر ہوگا، تاہم اگر والد صاحب نے تقسیم نہیں کی تھی، بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں میں سے کسی نے ایسی تقسیم کی کہسب ترکہ مرحوم کے بیٹوں میں تقسیم کر کے مرحوم کی بیٹی کو کچھ بھی نہیں دیا تو ایسی غیر شرعی اور قرآن مجید کے صریح حکم کے خلاف تقسیم کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور مرحوم کے بیٹوں پر لازم ہے کہ وہ مرحوم کے کل ترکہ کو ٩حصوں میں تقسیم کرکے٢ حصے  ہر  ایک بیٹے کو  اور ایک حصہ مرحوم کی بیٹی کو دیں اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو گناہ گار ہوں گے، اور  ایسی تقسیم آخرت میں اللہ کی پکڑ اور جنت سے محرومی کا باعث ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200054

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں