بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بڑے بیٹے کا مرحوم والد کے ترکہ پر قبضہ کرنے اور تقسیم نہ کرنے کا حکم


سوال

میرے سسر کی زندگی میں ان کے گھر کے اوپر والے حصے پر فیکٹری تھی جو ان کے تین بیٹے چلاتے تھے اور اس فیکٹری کی آمدنی اپنے والدین اور اپنی فیملی پر خرچ کرتے تھے، اب سسر کا انتقال ہو گیا ہے اور دو بھائی بھی امریکہ چلے گئے ہیں، صرف ایک بھائی ہی فیکٹری کے معاملات اور آمدنی کا مالک رہ گیا ہے، باقی بھائیوں کو اس  نے اپنے حساب سے کچھ کیش (نقدی) دے کر فیکٹری سے دست بردار کروالیا ہے جس پر وہ دونوں بھائی  بھی خوش نہیں ہیں ،لیکن کوئی حل نہیں ہے، پانچ بہن اور چار بھائیوں میں سب خاموش ہیں، صرف بڑے بھائی سسر کے گھر پر اپنا بزنس (کاروبار) چلا رہے ہیں، کیا سسر کے گھر کو بیچ کر باقی بچوں کو حصہ دینا لازمی نہیں ہے؟  ایک سال سے وہ اکیلے سب کچھ لے کر بیٹھ گئے ہیں اور بہت بدزبانی بھی کرتے ہیں، البتہ بہنوں کو کوئی اعتراض نہیں ہے، سب کہتی ہیں کہ چھوڑو ! بڑے بھائی ہیں، ہم کو ضرورت نہیں ہے۔ واضح کردوں کہ وہ (بڑے بھائی) کوئی ضرورت مند نہیں ہیں، اپنی بیٹی کی شادی ابھی تیس لاکھ  روپے میں کی ہے انہوں نے۔ 

جواب

آپ کے سوال میں لین دین کے معاملہ کی مکمل وضاحت نہیں ہے، البتہ آپ کے سسر کے انتقال کے بعد ان کی تمام جائے داد منقولہ و غیر منقولہ ان کا ترکہ ہے اور اس ترکہ میں ان کے تمام شرعی ورثاء (بیٹے، بیٹیوں وغیرہ) کا میراث کے ضابطہ شرعی کے موافق حق ہے، مرحوم کے بڑے بیٹے کا مرحوم کی تمام جائے داد پر قبضہ کرلینا اور ورثاء کے درمیان  ترکہ کو تقسیم نہ کرنا انتہائی غلط فعل اور نا انصافی ہے،  مرحوم کے بڑے بیٹے اور دیگر ورثاء کو چاہیے  کہ تمام ترکہ کی تفصیل لکھ کر کسی مستند دار الافتاء سے  پوچھ لیں کہ ہر وارث کا کتنا حق بنتا ہے، پھر اس حساب سے ہر ایک کو اس کا حق دے دیا جائے، میراث ایک حق جبری ہے؛ اس لیے مرحوم کی بیٹیوں کے یہ کہنے سے کہ   ’’ چھوڑو ! بڑے بھائی ہیں، ہم کو ضرورت نہیں ہے‘‘ ان کا حق ترکہ میں سے ختم نہیں ہوگا، البتہ اپنا حق وصول کرنے کے بعد اگر وہ خوشی سے کسی کو بھی دینا چاہیں تو ان کی مرضی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں