بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جدائی کے بعد بچے کا نفقہ والد پر ہوگا نیز آٹھ سال کے بچے کی پرورش و تربیت کا حق


سوال

زوجین شادی کے سال بعد الگ ہوگئے، اور پھر 4 برس بعد طلاق ہوگئی۔ان کا ایک بیٹا ہے ماں کے پاس، جو  اَب آٹھ سال کا ہے، جس کا خرچ والد 8 سال سے دے رہا ہے، جس کا قانونی ثبوت بھی موجود ہے، اس کے باوجود پچھلے 5 سال سے والد کو بچے کے ساتھ ملنے نہیں دیا گیا۔

سوال یہ ہے کہ آیا والد بچے کو لے لینے کا شرعاً مجاز ہے در ایں حال کہ وہ چاہتا بھی ہے۔ اور کیا پاکستانی عدالت اس بچے کا ماہانہ خرچ دینے کے لیے والد کو پابند کر سکتی ہے؟ جب کہ بچہ 8 سال کا ہو چکا اور باپ بچے کو لینا بھی چاہتا اور تعلیم بھی دلوانا چاہتا، لیکن حالت یہ ہے کہ باپ کو ملنے بھی نہیں دیا جاتا۔ برائے کرم کتاب و سنت کی روشنی میں ہماری راہ نمائی کریں جس سے میرے کرب اور اذیت میں کمی ہو!

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب کہ بچے کی عمر آٹھ سال ہوچکی ہے تو اس کاحقِ پرورش والد کو ہے اوراگرعدالت میں مقدمہ جائے تو عدالت ازروئے شرع پابند ہوگی کہ وہ بچے کووالد کےسپرد کرے، اوروالد پر لازم ہوگا کہ بچے کو اپنی تحویل میں لے۔والد کو کئی سال اپنے بیٹے سے ملنے نہ دینا ناجائز تھا۔

۲۔بچے کے نان نفقہ کی ذمہ داری بہر صورت والد پر ہی ہے، چاہے وہ اس کے پاس رہے یا اپنی والدہ کے پاس رہے۔

"نفقة الأولاد الصغار علي الأب، لا يشاركه أحدٌ، كذا في الجوهرة النيرة". (الفتاوى الهندية، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ١/ ٥٦٠، ط: رشيدية) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے