بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بچہ مردہ پیدا ہونے کی صورت میں کفن کا حکم


سوال

اگر لڑکا مردہ پیدا ہوجائے تو اس کو کفن دینے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

اگر بچہ مردہ پیدا ہو تو اسے مسنون کفن دینے کی ضرورت نہیں ہے، اسے غسل دینے کے بعد صرف کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کردینا چاہیے، یہی اس کا کفن ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 228):

"(وإلا) يستهل (غسل وسمي) عند الثاني، وهو الأصح، فيفتى به على خلاف ظاهر الرواية إكراماً لبني آدم، كما في ملتقى البحار. وفي النهر عن الظهيرية: وإذا استبان بعض خلقه غسل وحشر هو المختار (وأدرج في خرقة ودفن ولم يصل عليه)".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200520

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے