بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے مال سے دعوت کھانے کا حکم


سوال

1- اگر کسی اسلامک اسکول میں بچوں کے کہنے پر دعوت ہو اور بچے اپنی رضامندی سے پیسے دیں، اور ٹیچرز بھی آتی ہیں، اور یہ کہا جاتا ہے کہ جو پیسے نہ دیں وہ دعوت میں نہ آئیں، نیز جو بچے پیسے دیتے ہیں ان کا علم نہیں ہوتا کہ ان کے والدین وغیرہ کی کمائی حلال ہے یا حرام، تو کیا یہ دعوت جائز ہے؟ اور اس میں شرکت کر سکتے ہیں؟ اگر ناجائز ہے اور شرکت کر لی تو تلافی کی کیا صورت ہے؟ 2- کسی کے پاس کپڑے موجود ہوں اور وہ قمیض کے بغیر نماز پڑھے اس لئے کہ نماز کا وقت ختم ہورہا ہو تو کیا نماز ہوجائے گی؟ 3- کسی بالغہ لڑکی کے پاس 20 ہزار سے زائد رقم ہو اور وہ اپنی خواہش سے قربانی کرے تو قربانی ہوجائے گی؟ اگر رقم الگ کرلی تھی لیکن مصروفیت کی بنا پر قربانی نہ ہوا کی تو اس رقم کا کیا کیا جائے؟

جواب

1 - مذکورہ صورت میں بچوں کی دعوت کھانا جائز ہے، اس لیے کہ یہ دعوت گویا بچوں کے والدین کی جانب سے ہوگی، بچے رقم کے جمع ہونے میں محض واسطہ بنیں گے، البتہ یہ خیال ضرور رکھاجائے کہ سب یا اکثر والدین کی آمدنی حلال ہو. 2- قمیص اتار کر نماز پڑھنے سے نماز ہو جاتی ہے ، لیکن مکروہ ہوتی ہے. 3- مذکورہ صورت میں ملکیت مین محض اتنی مالیت سے اس عورت پر قربانی واجب نہیں، البتہ اگر اپنی خوشی سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتی ہے. اور اگر رقم الگ کرنے کے باوجود قربانی نہ کر سکی تو اس رقم کو صدقہ کرنا بہتر ہے مگر واجب نہیں ۔ واللہ اعلم!


فتوی نمبر : 143601200021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں