بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بنگلہ دیش کے مدارسِ قومیہ میں امتحانی فیس میں اضافہ کرنا


سوال

ہمارے یہاں بنگلہ دیش میں عموماً مدارسِ قومیہ میں امتحان سے پہلے فیس کے نام سے جو لیا جاتا ہے اگر کوئی اہلِ مدارس اس فیس کی مقدار میں  اتنا اضافہ کرے جو عموماً دوسرے  مدارس میں رائج نہیں ہے۔ کیا ان کے لیے یہ  جائز ہوگا یا نہیں؟  قرآن و حدیث اور فقہِ اسلامی کی رو سے بتائیں  اور مخفی نہ رہے کہ اساتذہ کرام طلبہ سے پورے سال کوئی فیس، وظیفہ یا کسی اور نام سے کچھ نہیں لیتے،  اس لیے امتحان کی فیس عادت سے زیادہ لینے  میں ان کا مقصد اپنے  حصہ میں ‍اضافہ کرنا ہوتا ہے!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں ادارہ امتحانی فیس میں  ضرورت کے بقدر متعارف  اضافہ کر سکتا ہے،  غیر متعارف اضافہ سے اجتناب کرنا چاہیے، البتہ اساتذہ اور نظمِ امتحان کی ضرورت کے پیشِ  نظر  طلبہ کےتعلیمی اخراجات کی مد میں کوئی فیس مقرر کرکے وصول کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200146

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے