بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بنات کی درس گاہوں میں نگرانی کے لیے کیمرہ لگانا


سوال

 ہمارے یہاں ایک لڑکیوں کا مدرسہ ہے، جس میں بالغ اور نابالغ بچیاں دونوں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے لڑکیوں کی درس گاہ میں کیمرہ لگوایا گیا ہے۔ کیالڑکیوں کی درس گاہ میں کیمرہ لگانا درست ہے؟ کیوں کہ بسآوقات لڑکیاں گرمی کی وجہ سے اپنے دوپٹے کو بدلتی رہتی ہیں اور ایساکرنے میں بے پردہ ہونے کا اندیشہ رہتاہے جب کہ کیمرہ کی نگرانی کرنے والے حضرات بھی مرد ہیں نہ کہ عورت۔ دوسری بات یہ کہ جہاں سے کیمرہ کو آپریٹ کیا جاتاہے وہ آفس ہے اور وہاں پر لوگوں کا آناجانا لگارہتاہے۔ جس جگہ پر کیمرہ لگوایا گیاہے وہاں پر لڑکیوں اور پڑھانے والی معلمات کا آناجانا لگارہتاہے یعنی کہ لڑکیوں کے ہال میں لگوایا گیا ہے ۔ 

جواب

کیمرہ لگانا بذاتِ خود ناجائز ہے، کیمرہ پہلے تصویر بناتا ہے اور پھر اسے ظاہر کرتا ہے، اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ  کیمرہ کے ذریعے جو تصویر کھینچی جاتی ہے اس کے تین مرحلے ہوتے ہیں ، پہلے مرحلہ میں   روشنی کی کرنیں  عکس بناتی ہوئی کیمرہ میں  داخل ہوتی ہیں، اس سے شبیہ  حاصل کی جاتی ہے جسے عکس کا حصول (Formation) کہتے ہیں ، دوسرے مرحلہ میں کیمرہ کے  اندورنی پرزے پر محفوظ کردی جاتی ہے، جسے عکس کا ضبط  یا شبیہ کا ریکارڈ کرنا (Persistence) کہتے ہیں، اور تیسرے مرحلہ میں  اس محفوظ شدہ  شبیہ کو  اسکرین، پردہ یا کاغذ پر ظاہر کیا جاتا ہے جسے شبیہ کا اظہار (Presentation) کہتے ہیں، ان تینوں میں مقصودی مرحلہ آخری والا ہوتا ہے، اور یہ تصویرکے حکم میں اور ناجائزاور حرام ہے۔  جب نتیجہ  اور مآل ناجائز ہے تو اس تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ناجائز ہے۔ 

پھر بالخصوص بنات کی درس گاہوں میں کیمرہ لگانااور ان کی نقل وحرکت کی نگرانی کرنا اور پھر اس کو مرد حضرات کا آپریٹ کرنا یہ اس پر مستزاد قباحتیں ہیں کہ اس میں نامحرموں  کو دیکھنے کا الگ گناہ ہے، اور یہ کئی مفاسد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

لہذا  صورتِ مسئولہ میں لڑکیوں کی درس گاہ میں کیمرہ لگانا شرعاً جائز نہیں ہے، رہی بات  نگرانی کی تو یہ کام بغیر کیمرہ کے معتمد معلمات کے ذریعے کروایا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201944

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں