بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بلی کو مارنے کا حکم


سوال

کیا بلی کو مارنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

عام حالات میں بلی یا کسی بھی جانور کو ستانا درست نہیں، بلکہ ایسا کرنا گناہ کا کام ہے۔ تاہم اگر کوئی بلی ایسی ہو جو موذی ہو اور تکلیف کا باعث بنتی ہو تو ایسی بلی کو مار دینا جائز ہے، لیکن اس میں اس بات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کہ اس کو اس طریقے سے مارا جائے کہ اس کو زیادہ تکلیف نہ ہو، مثلاً تیز دھار چھری یاگولی سے مار دیا جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200348

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے