بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1440ھ- 20 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

بلوغت کے بعد بلا ضرورت نکاح میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے


سوال

میری عمر 22سال ہے، ہم چار بھائی ہیں، میں دوسرے نمبر پر ہوں، میں انجینئرنگ کر رہا ہوں، اگست 2019 میں مکمل ہوگی، اور ساتھ ہی ایک مدرسہ میں درس نظامی میں درجہ رابعہ میں ہوں، ٹیوشنز پڑھاتا ہوں، الحمدللّٰہ گھر کے حالات مناسب ہیں، والدین دونوں بر سرِ روزگار ہیں،  میں سادگی سے شادی کرنا چاہتا ہوں خالہ کی بیٹی سے (جو میٹرک پاس ہے، انٹر کرنے کا ارادہ ہے میں نے یہاں تک کہہ دیا میں شادی کے بعد انٹر کرا دوں گا ان شاء اللہ)، لیکن گھر والے اور خالہ دونوں ایک دو سال کے وقت کا تقاضا کر رہے ہیں کہ جاب لگ جاۓ کچھ پیسے آجائیں وغیرہ،  لیکن مجھے ابھی شدید ضرورت ہے،  کوشش کے باوجود گناہ ہو جاتا ہے نیٹ وغیرہ پر حال آں کہ بہت احتیاط کرتا ہوں، فیس بک یا میسنجر پر لڑکیوں سے کوئی دوستی وغیرہ کچھ بھی نہیں اور بیانات میں بھی جاتا رہتا ہوں،  صورتِ ہٰذا میں میں کیا کروں ؟  آپ کی راہ نمائی کا منتظر رہوں گا!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر آپ اپنی منکوحہ کے نان و نفقہ اور اسے رہائش فراہم کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں یا آپ  کے والدین اسے یہ سہولیات مہیا کرنے پر رضامند ہوں تو ایسی صورت میں آپ کے بڑوں کو چاہیے  کہ آپ کی شادی کا اہتمام کردیں، بلوغت کے بعد شادی میں ضرورتِ شرعیہ کے بغیر تاخیر کرنا کئی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے درست نہیں، حدیث شریف میں مناسب رشتہ ملنے کے بعد جلد نکاح کرنے کا حکم ہے، اور تاخیر یا رد کرنے کی صورت میں فتنہ اور بڑے فساد کے اندیشے کا ذکر ہے۔

تاہم اگر آپ اپنی منکوحہ کے نان و نفقہ اور سکنیٰ (رہائش)  کی اہلیت نہیں رکھتے اور والدین بھی یہ مصارف ادا کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اس صورت میں جب تک نکاح کا انتظام نہ ہوجائے کثرت سے روزے رکھنے کا اہتمام کیجیے۔ اور انٹر نیٹ کے استعمال سے گریز کیجیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201986

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے