بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

بغیر علم کے خلع کے کاغذات پر سائن کروانا


سوال

زید کی بیوی نے اپنے شوہر سے اس کے علم میں لائے بغیرکسی طرح خلع کے پیپر پر سائن لے لیے، پھر اس کے گھر میں عدت گزار کر کسی اور سے نکاح کرلیا۔ایک ماہ بعد اس سے بھی کسی طرح طلاق لیے بغیر عدت کے بعددوبارہ پہلے شوہر سے کورٹ میں جاکر نکاح کرلیا، آیا اس عورت کی طلاق واقع ہوئی جب کہ اس کا شوہر نہ جانتاہواور نہ ہی طلاق دینا چاہتا ہو؟ اس کادوسرا نکاح واقع ہوا؟ اس کا عدت کے بغیر دوبارہ نکاح کرنے کا حکم ؟تینوں مسئلوں کا شریعت کے مطابق حل بتائیں!

جواب

زید کی بیوی نے جس وقت اس سے خلع کے کاغذات پر دستخط لیے تو اگر واقعۃً  اسے یہ علم نہ تھا کہ یہ خلع کے کاغذات ہیں تو اس سے خلع واقع نہیں ہوا، اس کی بیوی کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ کسی اور مرد سے نکاح کرتی ، کیوں کہ وہ زید کے نکاح ہی میں ہے، لہذا اس پر لازم ہے کہ اس نے جو عرصہ زید کے بعد نکاح کرکے دوسرے مرد کے ساتھ گزارا ہے اس پر توبہ و استغفار کرے، دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا،کیوں کہ وہ زید کے نکاح میں تھی، لہذا اسے ختم کرنے کے لیے طلاق کی ضرورت نہیں تھی۔

'' كذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه''۔ ( رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الصريح ۳/ ۲۴۷ ط:سعيد)


فتوی نمبر : 143909200308

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں