بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 اکتوبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بغیر اجازت کیے گئے نکاح کے فارم پر لڑکی کے انگوٹھا لگانے سے نکاح کا حکم


سوال

لڑکی دل سے رضا مند نہ ہو اور والد کو پتا ہونے کے با وجود اس کا نکاح بغیر لڑکی کے پوچھے کسی سے کر دے اور لڑکی دستخط کرنا جانتی ہو،  لیکن زبردستی کی وجہ سے غصے سے نکاح نامہ پر انگوٹھا لگا دے تو کیا ایسا نکاح نافذ ہو جاتا ہے؟

جواب

اگر نکاح کے وقت اس لڑکی  نے اس نکاح پر رضامندی کا اظہار نہیں کیا تھا، اور نہ ہی خود اس نکاح کو قبول کیا اور نہ ہی کسی کو مجلسِ نکاح میں اپنی طرف سے اس نکاح کو قبول کرنے کا وکیل بنایا تو یہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ لڑکی کی مرضی پر موقوف ہے، اگر لڑکی نے نکاح کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد قولاً یا فعلاً رضامندی کا اظہار کردیا تھا تو نکاح منعقد ہوگیا تھا، لیکن اگر لڑکی نے اطلاع ملنے پر اس نکاح کو رد کردیا تھا تو پھر یہ نکاح کالعدم ہوگیا تھا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200895

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے