بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

برائیڈل شاور اور بے بی شاور کا حکم


سوال

آج کل "برائیڈل شاور "کا بہت رواج ہے جو  شادی سے پہلے دلہن کے لیے کیا جاتا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ :یہ گناہ نہیں ہے، اس بارے میں کیا حکم ہے؟ اسی طرح "بےبی شاور "یعنی "گود بھرائی "کا کیا حکم ہے؟

جواب

اسلامی معاشرت میں نکاح جس قدر سادہ تقریب تھی، امتدادِ زمانہ کے ساتھ  اسی قدر تکلفات سے بوجھل اور بد اخلاقی کا گہوارہ بنتی چلی جا رہی ہے، اسلام میں نکاح کے معاملہ میں نہ  کسی قسم کی پیچیدگی ہے اور نہ ہی نمود ونمائش،  کیا ہی عمدہ احکامات اور تعلیمات ہیں! لیکن ہم نے اپنی جہالت، جذبہ نمائش دولت اور رسوم و رواج کی پرستش کے باعث اس کی شکل بگاڑ دی ہے ،جس کی بنا پر  اب  نکاح ”بوجھ“بن چکا ہے ۔  نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو سب سے بابرکت قرار دیا ہے جس میں خرچہ سب سے کم ہو۔ ( مشکاۃ المصابیح،  کتاب النکاح، الفصل الثالث ، ص: ۲۶۶) 

شادی بیاہ کی رسومات کی فہرست پہلے ہی بہت طویل تھی،اس میں ایک نیا اضافہ "برائیڈل شاور "نامی تقریب کا ہے،جس میں دلہن کے نام تحائف دیے جاتے ہیں ، یہ رسم مغربی معاشرہ سے درآمد شدہ ہے، جس کا اہتمام  غیروں کی مشابہت اور نقالی  کے ساتھ ساتھ شادی کے آسان اور سستے  عمل کو مزید مشکل اور مہنگا کرنے کا باعث بن رہا ہے،لہٰذا اس قسم کی تقریبات ترک کرنے اور اس کی سخت حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔

آپ کا دوسرا سوال "بے بی شاور " یعنی  گود بھرائی سے متعلق ہے، تو اس سلسلہ میں  عرض یہ کہ : بچہ کی  پیدائش کے وقت  سنت اعمال یہ ہیں :

1: پیدائش کے بعد نہلا دھلا کر دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر کہہ دی جائے۔ 2:  کسی دین دار بزرگ سے تھوڑا چھوارہ چبوا کر اس کے تالو  میں لگا دیا جائے۔ 3: ساتوٰیں دن لڑکے کے لیے دوبکرے اور لڑکی کے لیے ایک بکری  کا عقیقہ کیا جائے۔ 4: با ل منڈوا کر سر پر زعفران لگادیا جائے۔ 5: بالوں کے وزن  کے برابر چاندی خیرات کردی جائے۔ 6: اور جب بچے میں برداشت کی قوت ہو  اس کا ختنہ کرادیا جائے۔ بس یہ باتیں باعثِ ثواب اور کرنےکی ہیں،  اس کے علاوہ جو کچھ بھی ، کسی بھی نام سے ہے وہ سب فضول کی رسمیں ہیں جو کہ منع ہیں۔  ( ماخوذ از بہشتی زیور، چھٹا حصہ، ص: ۱۲)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143803200006

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں