بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بدون نیت لفظ " الاک" کہنے سے طلاق نہیں ہوتی


سوال

میرے والد نے اپنی اہلیہ سے جھگڑے کے دوران ڈانٹتے ہوئے لفظ "الاک"  کہا کہ "میں آپ کو الاک کرتا ہوں"، لفظ طلاق نہیں کہا اور اس لفظ  سےطلاق کا کوئی ارادہ اور نیت نہیں تھا، اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں ؟

جواب

 "میں آپ کو الاک کرتا ہوں"کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143905200083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے