بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بدبودار پانی کا استعمال


سوال

 اگر صاف پانی موجود نہ ہو اور ہلکا بدبودار پانی جسم پر بہالیا نہانے کی نیت سے اور سرنہیں دھویا۔ تو ایسی صورت میں دوبارہ صاف پانی سے بدن دھوئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں صاف پانی سے وضو کرکے؟ یا پہلے دوبارہ جسم پر صاف پانی بہانا پڑے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر پانی کی بو کسی پاک چیز کے ملنے کی وجہ سے تبدیل ہوئی تھی اور پانی کے باقی اوصاف رنگ اور مزے میں کوئی فرق نہیں آیا تھا اور غسل فرض بھی نہیں تھا تو دوبارہ غسل کرنے کی شرعاً ضرورت نہیں ہوگی، البتہ اگر ناپاک چیز کے ملنے کی وجہ سے پانی بدبودار ہوگیا تھا تو اس صورت میں مذکورہ پانی شرعاً ناپاک شمار ہوگا اور ناپاک پانی جسم پر لگنے کی وجہ سے جسم بھی ناپاک ہوجائے گا ؛ لہذا ایسا پانی استعمال کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا، اور استعمال کی صورت میں جسم کی طہارت کے لیے پاک پانی سے نہانا ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201319

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے