بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

باہمی نباہ نہ ہونے کی صورت میں جدائی کا طریقہ کار


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں: ھندہ اور زید کا نکاح ہوتا ہے اور رخصتی کی تاریخ چھ ماہ بعد مقرر کی جاتی ہے ، نکاح کے بعد فون پر بات چیت ہوتی ہے اور نوبت آپسی چپقلش تک پہنچ جاتی ہے ، اب صورت حال یہ ہے کہ: لڑکا اور لڑکی دونوں ہی ایک ساتھ رہنا نہیں چاہتے ، اس صورت حال پر ھندہ کے گھر والے زید سے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں اور حق مہر کی رقم پچاس ہزار تھی وہ بھی معاف کردیتے ہیں ، لیکن زید نہ نکاح قائم رکھنا چاہتا ہے اور نہ طلاق دینے پر آمادہ ہے ، بلکہ وہ لڑکی کے گھر والوں سے اور لڑکی سے ایسی شرائط پر اقرار کروانا چاہتا ہے جو کہ خلافِ اصل ہیں ، زید کا کہنا ہے کہ: اس شرائط نامے پر دستخط کرو گے تو میں طلاق دوں گا۔ اس شرائط نامے میں:

1۔ زید یہ کہتا ہے کہ: کسی قسم کا بھی مجھے جانی اور مالی نقصان ہو تو ذمے دار لڑکی والے ہوں گے ۔

2۔زید یہ الزام لگاتا ہے کہ: لڑکی میرے پاس فحش تصویریں بھیجا کرتی تھی جب کہ لڑکی اس بات سے انکار کررہی ہے۔

 3۔ اس طرح وہ باتیں جو نکاح کے بعد زید اور ھندہ کے درمیان بے تکلفی اور مذاق میں ہوئی تھی زید ان باتوں کو بھی تحریر میں لکھتا ہے، اب اس کا مطالبہ ہے کہ:اس تحریر پر لڑکی اور اس کے گھر والے دستخط کریں تو ہی میں طلاق دوں گا،ورنہ میں طلاق نہیں دوں گا ۔ تو آیا زید کا یہ مطالبہ درست ہے؟ اب لڑکی کے لیے شریعت کیا راہ نمائی کرتی ہے ؟اگر لڑکی اور اس کے گھر والے اس شرائط نامے پر دستخظ کردیں تو درحقیقت اس میں بہت سی باتیں حقیقت پر مشتمل نہیں ، پھر بعد میں اس تحریر کے ذریعے سے وہ لڑکی اور لڑکی والوں کو بدنام بھی کرسکتے ہیں۔ اس مسئلہ پر متعدد بار لڑکے سے اور ان کے گھر والوں سے بات ہوئی ، لیکن وہ ان شرائط پر دستخط کروائے بغیر راضی نہیں ہورہے ۔  ایسی صورت حال میں لڑکی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے خلع حاصل کرکے لڑکے سے اپنی جان چھڑالے ؟ اس کےمتعلق بھی ارشاد فرمائیں کہ: اس معاملے کے بعد لڑکے نے مطالبہ کیا تھا کہ لڑکی کو جو جو تحائف دیئے گئے ہیں وہ بھی واپس کیے جائیں جس پر وہ تمام تحفے تحائف جو لڑکے کی طرف سے ھندہ کو ملے تھے واپس کردیئے گئے ؟ لیکن وہ تحفے جو ھندہ کی طرف سے زید کو ملے تھے وہ واپس نہیں کیے گئے، شریعت اس متعلق کیا کہتی ہے ؟

جواب

 ۱۔ہر قسم کے نقصان کا ذمہ دار لڑکی والوں کو ٹھہرانادرست نہیں،البتہ زید کو کوئی نقصان واقعتاً اگرلڑکی والوں کی طرف سے ہوا تو بجا طورپر لڑکی والے ذمہ دارہوں گے۔

۲۔اس کا فیصلہ یہاں تو نہیں کیا جاسکتا، بالفرض اگرلڑکی فحش تصاویر بھیجا کرتی تھی اورزید کو اس وجہ سے ناراضی ہے تو چاہیے کہ طلاق دے کر احسن طریقہ سے معاملہ ختم کردے۔

۳۔زید اگر خلافِ حقیقت شرائط پر مشتمل تحریر پر دستخط کرانا چاہتا ہے تو لڑکی والے انکار کاحق رکھتے ہیں۔اگر زید نہ طلاق دیتا ہے اور نہ خلع پر راضی ہے تو عدالت سے رجوع کیا جائے کہ اسے بیوی کو رکھنے یا چھوڑنے پر مجبورکرے۔

۴۔میاں بیوی نکاح کے قیام کے وقت ایک دوسرے کو جو تحائف پیش کرتے ہیں ،ان کی واپسی نہیں ہوسکتی۔

معامہ فہم لوگوں کو چاہیے کہ زیداور اس کے گھر والوں کی فہمائش کریں، جب دونوں نے ساتھ نہ رہنے کا تہیہ کرہی لیا ہے تو کسی بھی طرف سے بے جا شرائط کسی کے حق میں بھی مفید نہیں ہوں گی، جس طرح زید کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے اسی طرح ہندہ کو بھی زید اور اس کے گھر والوں کی طرف سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ رہے گا؛ اس لیے اس موقع پر ضد کرنا ناعاقبت اندیشی ہوگی۔ اگر ہندہ یا اس کے گھروالوں کی طرف سے کوئی ایسی بات پائی گئی ہے جس سے زید اور اس کے گھروالوں کو تحفظات ہیں تو ان کا ازالہ کردیاجائے، تاکہ معاملہ حسن خوبی سے انجام کو پہنچے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143712200032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں