بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 جولائی 2019 ء

دارالافتاء

 

بالوں کی پیوندکاری اور مصنوعی بالوں کا حکم


سوال

 کیا بال عطیہ کرنا کسی کو جائز ہے؟ چاہے اپنے  یعنی زندہ انسان کے بال ہوں یا کسی مردہ کے بال؟  اسی طرح  نقلی بال لگوانا یا کسی انسان کے بال اپنے سر یا جسم پر لگوانا کیسا ہے ؟

جواب

انسانی اعضاء نہ مال ہیں اور نہ ہی انسان اپنے اعضاء کا مالک ہے،اس لیے اپنے اعضاء میں سے کوئی عضو (چاہے بال ہوں یاکوئی اور عضو)نہ کسی کوہبہ کرسکتاہے،نہ عطیہ کرنے کی وصیت کرسکتاہے۔یہی حکم مردے کابھی ہے،یعنی کسی مردہ انسان کے اعضاء میں سے بھی کوئی عضو کسی دوسرے کولگاناجائزنہیں۔

مصنوعی بال اگر کسی دوسرے انسان یا خنزیر کے نہ ہوں تولگاناجائز ہے(بشرطیکہ ان مصنوعی بالوں سے کسی موقع پر دھوکا یا خلافِ حقیقت صورت کا اظہار مقصود نہ ہو) اوراگر ہٹانے سے ہٹتےہوں تو ان پر مسح نہیں ہوگا،یعنی وضو اور غسل کے وقت ہٹاناضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143806200004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے