بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1440ھ- 24 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

بالوں کو جلانا


سوال

سر کے ٹوٹے ہوئے بالوں کو جلانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

بالوں کو دفن کرنا یا  دریا برد کردینا چاہیے، یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیں جہاں بے توقیری نہ ہو۔  بوجہ احترام ان کا جلانا درستنہیں ۔

فتاوی محمودیہ میں ہے:

’’بال اورناخن کو جلانا جائز نہیں، ایسی عورتیں جو دفن نہیں کرسکتیں وہ کسی کپڑے یا کاغذ میں لپیٹ کر کہیں ڈال دیں، لیکن بالوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔‘‘ (فتاوی محمودیہ ج:٩ص:٤٠١)

"وفي الخانیة: ینبغي أن یدفن قلامة ظفره ومحلوق شعره، وإن رماه فلابأس به". (حاشیة الطحطاوي علی مراقي الفلاح، ۱/۵۲۷)

"یدفن أربعة: الظفر، والشعر، وخرقة الحیض والدم". (الهندیة، الباب التاسع عشر،  ۵/۳۵۸)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200094

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے