بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 اکتوبر 2018 ء

دارالافتاء

 

ایک ٹانگ سے معذور شخص کی امامت


سوال

میں ایک سرکاری محکمہ میں ملازمت کرتا ہوں،  سرکاری مسجد میں مولوی صاحب ہیں جو ایک ٹانگ سے معذور ہیں، کیا ان کے پیچھے  نماز ہو سکتی  ہے؟

جواب

اگر مذکورہ امام رکوع اورسجدہ ادا کرنے پر قادر ہیں، اور نماز میں باقاعدہ رکوع اور زمین پر سجدہ  کرتے ہیں  تو ان کی اقتدا میں نماز پڑھنا درست ہے، اور اگر  پاؤں سے معذور ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھتے ہیں  اور باقاعدہ زمین پر بیٹھ کر رکوع سجدہ نہیں  کرسکتے تو  رکوع اور سجدہ پر قادر مقتدیوں کے لیے ان کی  امامت  درست نہیں ہے۔

        فتاوی شامی میں ہے:
'' (وصح اقتداء متوضئ) لا ماء معه (بمتيمم) ولو مع متوضئ بسؤر حمار مجتبى (وغاسل بماسح) ولو على جبيرة (وقائم بقاعد) يركع ويسجد؛ «لأنه صلى الله عليه وسلم  صلى آخر صلاته قاعدا وهم قيام وأبو بكر يبلغهم  تكبيره» (قوله وقائم بقاعد) أي قائم راكع ساجد أو موم، وهذا عندهما خلافا لمحمد. وقيد القاعد بكونه يركع ويسجد لأنه لو كان موميا لم يجز اتفاقاً''۔ (1/588، باب الإمامة،  ط؛ سعید)

        وفیہ ایضا::

''(و) لا (قادر على ركوع وسجود بعاجز عنهما) ؛ لبناء القوي على الضعيف (قوله: بعاجز عنهما) أي بمن يومئ بهما قائماً أو قاعداً، بخلاف ما لو أمكناه قاعداً فصحيح كما سيأتي. قال ط: والعبرة للعجز عن السجود، حتى لو عجز عنه وقدر على الركوع أومأ ''۔ (1/579، باب الإمامة، ط: سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200495


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں