بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق رجعی کے بعد عدت کی مدت اور عدت میں رجوع و عدم رجوع کا حکم، رجوع کا طریقہ


سوال

میرے شوہر جس سے میرے دو بیٹے ہیں، نے رنجشوں ، بد نیتوں اور غلط فہمیوں کی بنا پر مجھے مورخہ 10 دسمبر 2018ء کو تحریری طور پر ایک طلاق رجعی بھیج دی ۔ اس بارے میں سرسری طور پر جو ممکن استفسار میں نے کیا وہ کچھ یوں ہے کہ اس طلاق کی مدتِ رجوع عدت یعنی تین ماہواریاں ہیں۔ اور اگر اس دوران میاں بیوی میں بوجوہ رجوع نہ ہوپائے تو مکمل طلاق واقع ہوجائے گی اور بیوی شوہر کے نکاح سے نکل کر غیر ہوجائے گی۔

مجھے اس معاملے میں دینِ اسلام کے حوالے سے پوری واقفیت درکار ہے، براہِ کرم مجھے درج ذیل امور میں راہ نمائی دے کرممنون فرمائیں!

1ـ   مورخہ 10 دسمبر 2018ء سے آگے اس طلاق کی مدت کتنی حساب ہوگی؟ اور اس مدت کے پورے ہونے تک اگر بوجوہ رجوع نہ ہوپائے تو کیا پورا نکاح باطل ہوجائے گا؟ رجوع کی بھی وضاحت فرمائیں۔

2ـ  اگر بصورتِ عدمِ رجوع وتکمیلِ مدت وعدت نکاح باطل ہوجاتا ہے تو اس کے تجدید کی کیا صورت ہوگی؟ اور مدت یعنی تین ماہواریاں گزر جانے کے بعد عدت الگ سے حساب ہوگی یایہی مدت ہی عدت میں شمار ہوگی؟ 

3ـ چوں کہ شوہر اکثر و بیشتر میرے کردارپر انگلی اٹھا کر رکیک اور اہانت آمیز الزامات لگاتا ہے، اور طلاق کی بنیادی وجہ بھی یہی بتاتا ہے تو اس صورت میں کیا مدت و عدت گزر جانے کے بعد ایسے شخص سے تجدیدِ نکاح کی کوئی گنجائش ہوگی یا ممنوع ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  آپ پر مؤرخہ ۱۰ دسمبر کو ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے، اس طلاق کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے تک شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہے، اگر شوہر تین ماہواری گزرنے سے پہلے رجوع کرلیتا ہے تو آپ کا نکاح برقرار رہے گا، دوبارہ نئے سرے سے نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر شوہر عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کرتا ہے تو یہ طلاقِ رجعی طلاقِ بائن بن جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اس صورت میں آپ کو مزید عدت گزارنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ عدمِ رجوع کی صورت میں آپ اس ایک عدت کے ختم ہوتے ہی کسی بھی جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوں گی۔

پھر اگر آپ دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا پڑے گا، حلالہ کی ضرورت نہیں ہوگی، البتہ آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی سے کہے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں، یہ رجوعِ قولی کہلاتا ہے، یا شوہر بیوی کے ساتھ زوجین والے تعلقات قائم کرلے ، یہ رجوع فعلی کہلاتا ہے، لیکن رجوعِ فعلی کرنے کو فقہاء نے مکروہ قرار  دیا ہے۔

عدمِ رجوع کی صورت میں عدت ختم ہوتے ہی نکاح بھی ختم ہوجائے گا، نکاح ختم ہوتے ہی آپ آزاد ہوں گی، چاہے تو اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کریں یا کسی دوسری جگہ، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں، شوہر کی طرف سے غلط الزامات لگائے جانے کی وجہ سے شرعاً آپ کے لیے اس سے نکاح کرنا ممنوع نہیں ہوگا، البتہ یہ فیصلہ اپنے احوال دیکھ کر آپ کو خود کرنا ہوگا کہ آپ کا سابقہ شوہر کے ساتھ نباہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور کیا آپ کا اس سے دوبارہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟  اس بارے میں اگرآپ اپنے خاندان کے مخلص، سمجھ دار اور دین دار بڑوں سے مشورہ کرکے کوئی فیصلہ کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 397):

"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.

 (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 409):

"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں