بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک طلاق رجعی کے بعد رجوع کا طریقہ


سوال

اگر کوئی شخص دورانِ تکرار اپنی بیوی کو ایک طلاق دے تو پھر رجوع کا کیا طریقہ ہو گا؟

جواب

ایک طلاقِ رجعی کے بعد عدت یعنی تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے رجوع کیاجاسکتاہے،اگر مرد اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا،اس سے قولی طور پر رجوع ہوجائے گا،اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے بلکہ بیوی سے تعلق قائم کرلے یاخواہش و رغبت سے اسے چھوئے یابوسہ لے لے اس سے بھی رجوع ہوجائے گا۔حاصل یہ ہے کہ قولاً یاعملاً رجوع کرلیناکافی ہے، البتہ قولی رجوع کرنا اوراس پر گواہان قائم کرنا مستحب ہے۔

اگر عدت پوری ہوگئی اوراس کے بعد دونوں کاارادہ ساتھ رہنے کاہوتودونوں کی رضامندی سے تجدیدِنکاح (دوبارہ نکاح کرنا)کافی ہوگا،البتہ اس کے بعد شوہردوطلاق کامالک ہوگا۔(فتاویٰ شامی،3/230،ط:ایچ ایم سعید)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں