بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس بیلنس لینے کی وجہ سے کی جانے والی کٹوتی کا حکم


سوال

موبائل میں جوسم کارڈلگاتے ہیں کسی بھی کمپنی کا،  بیلنس ختم ہونے کی صورت میں وہ کمپنیاں ایڈوانس بیلنس دیتی ہیں، اور ری چارج کرنے پر ایڈوانس بیلنس کے ساتھ اس کے سروس چارجز بھی کاٹتے ہیں  کسٹمر کے لوڈ سے، تو عرض یہ ہے کہ ایسا کرنا سود میں آتا ہے یا نہیں ؟

جواب

موبائل کمپنی اگرزائد رقم خدمت مہیا کرنے کے عوض وصول کرتی ہے (یعنی سروس چارجز کی مد میں زائد رقم لیتی ہے) تو ایڈوانس لینا جائز ہے ، بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو میسج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی جو ایڈوانس کی سہولت دیتی ہے  اور اس پر تھوڑی بہت رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز  کی مد میں ہی  کاٹتی ہے، یعنی ایڈوانس  کی سہولت فراہم کرنے کا عوض ہے جو کہ جائز ہے؛ اس لیے ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس کی سہولت حاصل کرنا اور اس کے عوض کمپنی کا سروس چارجز (زائد) وصول کرنا جائزہے۔ تاہم  زیادہ  بہتر اوراحتیاط اسی میں ہے کہ حتی الامکان ایڈوانس کی سہولت حاصل نہ کی جائے۔

 

اوراگر قرض دے کر اس کا عوض وصول کرتی ہے تو سود ہے، اور ایڈوانس لیناناجائزہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200677

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں