بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

ایڈوانس بیلنس لینا اور کمپنی کا زائد رقم وصول کرنا


سوال

 موبائل کمپنی سے ایڈوانس  قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟اور وہ جو زائد کٹوتی کرتے ہیں اور سود کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

بیلنس ختم ہونے کے بعد بعض موبائل کمپنیاں جو میسج بھیجتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی جو ایڈوانس کی سہولت دیتی ہے  اور اس پر تھوڑی بہت رقم کاٹتی ہے وہ سروس چارجز  کی مد میں کاٹتی ہے، یعنی ایڈوانس  کی سہولت فراہم کرنے کا عوض ہے جو کہ جائز ہے؛ اس لیے ایسی موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس کی سہولت حاصل کرنا اور اس کے عوض کمپنی کا سروس چارجز (زائد) وصول کرنا جائزہے۔ تاہم  زیادہ  بہتر اوراحتیاط اسی میں ہے کہ حتی الامکان ایڈوانس کی سہولت حاصل نہ کی جائے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں