بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ فری منٹس سے کال کرنے پر کچھ رقم کی کٹوتی کی صورت میں سہولیات کا حکم


سوال

ٹیلی نار کی سروس "ایزی پیسہ" میں ایک ہزار روپے رکھنے پر روزانہ پچاس منٹ فری ملتے ہیں۔ جس کے سود ہونے کا آپ نے فتوی بھی دیا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان پچاس منٹ میں سے جب آپ کال کرتے ہیں تو ہم فی کال کے ٖحساب سے آپ سے کچھ پیسے چارج کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ برائے مہربانی واضح فرمائیں کہ کیا واقعی اس صورت میں یہ سود میں نہیں آتا؟

جواب

عام طور پرکال  اور  انٹرنیٹ کی قیمت اتنے کم پیسے نہیں ہوتی،  بلکہ ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، ایزی پیسہ والوں نے  ان کی قیمت اس ہزار روپے قرض رکھنے کی وجہ سے کال اور انٹرنیٹ کی قیمت کم رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر صارف اکاؤنٹ میں ہزار روپے نہ رکھوائے تو  مذکورہ فری منٹس اور انٹرنیٹ ایم بی اتنے کم معاوضہ پر نہیں دیے جاتے۔ اور جو ہزار روپے رکھے جاتے ہیں ان کی حیثیت قرض کی  ہے اور قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط نفع سود ہے،  لہذا مذکورہ صورت سود کے حکم میں ہے اور جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے