بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں ملنے والے منافع(اضافی منٹس وغیرہ) کا حکم


سوال

میں نے اپنی ٹیلی نار سم سے ایزی پیسہ اکاؤنٹ بنوایاہے، جس سے ضرورت کے مطابق رقم کی ارسال و ترسیل ہوتی ہے۔لیکن کبھی کمپنی کی طرف سے میسج آتا ہے کہ روزانہ 1000 روپے رکھنے سے 50 منٹ 50 ایس ایم ایس 50 ایم بی دیے جائیں گے ۔ کبھی میسج آتا ہے کہ آج اپنے نمبر  پر اتنی مقدار لوڈ کرو تو اتنی ہی رقم واپس ملے گی۔ اسی طرح اور بھی منافع دیے جاتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ اکاؤنٹ میں رقم رکھنے پر یا لوڈ وغیرہ کرنے پر یہ اضافی منٹس یا رقم دینا سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کمپنی کی طرف سے مذکورہ اضافی 50منٹس یا 50 ایس ایم ایس یا50  ایم بی یا کوئی بھی دوسرا اضافی نفع   اکاؤنٹ میں لوڈ کروانے یا اکاؤنٹ میں مخصوص رقم ( مثلا 1000 روپے ) رکھنے کی شرط پر دیے جاتے ہیں (جیساکہ عموماً ہوتاہے) تو یہ قرض کی بنیاد پر حاصل ہونے والا مشروط نفع ہونے کی وجہ سے سود میں داخل ہوگا اور اس اضافی نفع ( منٹس وغیرہ ) کا استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

نوٹ : ایزی پیسہ اکاؤنٹ  کھلوانے کا مقصد رقم کی منتقلی ہو یا موبائل میں ری چارج وغیرہ کرنا، اور اس اکاؤنٹ کھلوانے یا اس میں رقم رکھنے پر  کمپنی کوئی مشروط نفع (مثلاً: فری منٹس، انٹرنیٹ ایم بی ، میسج وغیرہ) نہ دیتی ہو تو اس حد تک اس اکاؤنٹ کااستعمال درست ہوگا، لیکن  اگر  کمپنی  اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر  یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہے تو چوں کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت  قرض ہے، اور  قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو  مشروط منافع دیتی  ہے، یہ  شرعاً ناجائز ہے؛ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع  کے لین دین  کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم:۲۰۶۹۰ )اور   چوں کہ اس صورت میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز سودی معاہدہ کےساتھ مشروط ہے ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا ہی جائز نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ عموماً "ایزی پیسہ اکاؤنٹ" دوسری صورت کا ہوتاہے ؛ لہٰذا ایسا اکاؤنٹ کھلوانا  جائز نہیں  ہوگا، البتہ اگر کوئی کمپنی پہلی صورت کے مطابق "ایزی پیسہ اکاؤنٹ"  کی سہولت دے تو ایسا اکاؤنٹ کھولنے اور اس کے استعمال کی اجازت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166):

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعاً حرام. (قوله: كل قرض جر نفعاً حرام) أي إذا كان مشروطاً". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201242

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے