بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ذو الحجة 1440ھ- 23 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

ایزی لوڈ کے ذریعہ زکاۃ کی ادائیگی کا حکم


سوال

کیا ایزی لوڈ کے ذریعے زکاۃ  کی ادائیگی درست ہے؟ یعنی زکاۃ کے روپے میں سے مزکی (زکات دینے والا) فقیر کے موبائل نمبر پر مثلاً  ہزار روپے ایزی لوڈ بھیج دے تو کیا اس کی زکات ادا ہو جائے گی؟ 

جواب

اگر کوئی شخص کسی مستحقِ زکاۃ  آدمی کے نمبر  پر کچھ پیسے کا ایزی لوڈ کروادیتا ہے تو  اس شخص کو بیلنس موصول ہوتے ہی زکاۃ  ادا ہوجائے گی، لیکن ایک بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ ٹیکس وغیرہ کٹنے کے بعد جتنے روپے  کا بیلنس مستحقِ زکاۃ آدمی کے موبائل پر موصول ہوگا  اتنے روپے ہی کی زکاۃ ادا ہوگی، مثلاً  اگر کوئی ہزار روپے کا لوڈ کرواتا ہے، لیکن  مستحقِ  زکاۃ آدمی کو ٹیکس وغیرہ کی کٹوتی کی وجہ سے مثلاً  ساڑھے سات سو روپے کا بیلنس موصول ہوتا ہے تو  زکاۃ  ادا کرنے والے کے ہزار روپے زکاۃ  میں ادا نہیں ہوئے، بلکہ ساڑھے سات سو روپے زکاۃ میں ادا ہوں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے