بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 16 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایان، عایان یا اعیان نام نہ رکھا جائے


سوال

کیا عایان نام رکھا جا سکتا ہے، اور اس کے معنی کیا ہیں؟

جواب

لفظ ’’عایان‘‘  کا کوئی معنی نہیں ہے،  لہذا یہ نام نہ رکھا جائے. نیز ’’ایان‘‘  نام رکھنا بھی درست نہیں ہے، یہ اگرچہ عربی لفظ ہے، لیکن اس کا تلفظ الف پر زبر اور ی پر تشدید کے ساتھ ’’اَیَّان‘‘  ہے، اور کلامِ عرب میں یہ اسمِ شرط  ہے، جس کا معنی  "کب" ہے، لہذا یہ نام بھی نہ رکھا جائے۔ ایان، عایان، یا اعیان کے بجائے ’’عَیَّان‘‘ (عین کے زبر اور یا کی تشدید کے ساتھ) نام رکھا جا سکتا ہے جس کے ایک معنی کشادہ آنکھوں والا کے آتے ہیں۔ یا انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیا جائے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے