بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اہل وعیال کے ساتھ بیٹھنا مسجد میں اعتکاف سے افضل ہونے کی روایت کا حکم


سوال

کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "شوہر کا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھنا اس اعتکاف سے بہتر ہے جو میری مسجد میں ادا کیا جاۓ"؟

جواب

علامہ ابو اللیث السمرقندی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "تنبیہ الغافلین" میں ایک طویل حدیث نقل کی ہے، جس میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے مختلف سوالات کیے اور آپ نے ان کے جوابات دیے، جس میں یہ بھی تھا کہ : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول  اہل وعیال کے پاس بیٹھنا آپ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے یا مسجد میں بیٹھنا؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ  "اہل وعیال کے پاس بیٹھنا مجھے اپنی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے سے بھی زیادہ محبوب ہے"۔  مقصود اس سے حقوق العباد کی اہمیت  بتانا ہے اور اعتکاف سے مراد نفلی اعتکاف ہے۔

باقی  "تنبیہ الغافلین" میں ذکر کردہ روایت تلاش بسیار کے باجود حدیث کی کسی اور  معتبر کتاب بلکہ ضعیف اور موضوعات میں بھی نہ مل سکی، اور "تنبیہ الغافلین" حدیث کے باب میں مستند اور معتبر نہیں ہے،  اس میں کئی موضوع احادیث  ہیں، لہذا اس روایت کی نسبت آپ ﷺ کی طرف نہ کی جائے۔

تنبيه الغافلين بأحاديث سيد الأنبياء والمرسلين للسمرقندي (ص: 342):
"قال: قلت: يا رسول الله! الجلوس مع العيال أحب إليك أم الجلوس في المسجد؟ قال: «الجلوس ساعةً عند العيال أحب إلي من الاعتكاف في مسجدي هذا»" .
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200389

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں