بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اہل تشیع کے ہوٹل میں کھانا کھانا


سوال

۱۔ کیا شیعہ کے ساتھ کھانا پینا اور ان کے ہوٹل یا دوکان وغیرہ سے کوئی چیز لینا جائز ہے یا نہیں؟

۲۔ محرم کے مہینے میں جو لوگ کھانے پینے کی چیزیں گھروں میں لے کر آتے ہیں، ان میں بعض صحیح العقیدہ مسلمان بھی ہوتے ہیں تو ایسے کھانے پینے کی چیزوں کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

1۔ اہلِ تشیع  کےساتھ  ملنا اوراخلاق سے پیش آنا جائز ہے، عام احوال میں ان کی دعوت قبول کرنا اور  کھاناکھانا بھی جائز ہے، البتہ ان کی مذہبی تقریبات میں شریک ہوکر ان کے ساتھ کھانا کھانا اور دوستانہ رکھنا جائز نہیں ہے، یہی حکم ان کے ہوٹل میں کھانا کھانے کا ہے۔

2۔ ان ایام مخصوصہ میں خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء بنانااور تقسیم کرنا بدعت ہے،لہذا ان کے کھانے پینے سے اجتناب کرناچاہیے۔کربلاکے شہداء اور بزرگانِ دین کو ایصالِ ثواب کرنا مقصود ہوتو اس کے لیے کسی مہینے یا دن کاانتظارنہیں کرناچاہیے، بلکہ کسی بھی دن جومیسر ہوصدقہ کرکے اس کا ثواب بخش دیاجائے۔(کفایت المفتی،1/237، ط:دارالاشاعت-الاعتصام للشاطبی،1/39،ط:بیروت)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں