بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اہل تشیع کی مجالس میں شرکت کرنے کا حکم


سوال

 شیعہ حضرات کی مجالس میں شرکت کرنے ان کے نوحہ سننے اور بذات خود پڑھنے اور محرم میں اپنے معمول کے طور پر کالے کپڑے زیب تن کیے جائیں تو کیا یہ ٹھیک ہے یا اس پر بھی من تشبہ بہ قوم فھو منہ کا حکم لگایا جائے گا؟

جواب

(1) جو مجالس غیر شرعی امور پر مشتمل ہوں ان میں شرکت کرنا نا جائز ہے، نیز نوحہ پڑھنا  اور سننا بھی شرعاً نا جائزہے۔

(2) محرم الحرام کے مہینے میں سیاہ لباس پہننا چوں کہ ایک خاص طبقہ کا شعار بن چکا ہے؛ اس لیے محرم کے مہینے میں سیاہ لباس پہننا درست نہیں، خواہ اپنے معمول کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔

كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال (9/ 22):
"من كثر سواد قوم فهو منهم، ومن رضي عمل قوم كان شريكاً في عمله" . "الديلمي عن ابن مسعود".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200123

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں