بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اہلِ تشیع کی دکان پر ملازمت کرنے کا حکم


سوال

میں ایک اہلِ تشیع کی دکان پر کام کرتا ہوں، ان کے گھر سے دن کے وقت کا کھانا آتا ہے ان لوگوں کے ہاں میرا تھوڑا بہت آناجانا بھی ہے، ان کی کسی مذہبی تقاریب میں آتا جاتا نہیں ہوں، لب لباب یہ کہ میرا ان کے ساتھ کام کرنے میں کوئی حرج تو نہیں؟ مسلکی معاملے پر میں یا وہ لوگ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتے، صرف ہم لوگ کام سے کام رکھتے ہیں۔

جواب

اہلِ تشیع کی دکان پر ملازمت کرنے کی تو گنجائش ہے، لیکن ملازمت کے علاوہ امور مثلاً گھر میں آنے جانے اورزیادہ  میل ملاپ سے اجتناب کریں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے