بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

'اگر میں نے تمہاری کوئی چیز کھائی تو وہ مجھ پر حرام ہے' کہہ کر چیز کھا لی


سوال

 اگر کوئی والدہ اپنی بیٹی/بیٹے سے یہ کہے : "اگر میں نے تمہاری کمائی کی کوئی چیز کھائی تو وہ مجھ پر حرام ہے" یا "میں تمہاری کمائی نہیں کھاؤں گی , تمھاری کمائی مجھ پر حرام ہے" اور پھر گاہے گاہے اس کی کمائی کی چیز کھا لیتی ہے، تو:

1- کیا اس کا کوئی کفارہ آۓ گا?

2- اگر ہاں تو کیا?

3 - کیا یہ قسم میں سے شمار ہوگا? 

جواب

واضح رہے کہ کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا ’’قسم‘‘  ہے۔ لہٰذا والدہ کے مذکورہ الفاظ  ("اگر میں نے تمہاری کمائی کی کوئی چیز کھائی تو وہ مجھ پر حرام ہے" یا "میں تمہاری کمائی نہیں کھاؤں گی , تمھاری کمائی مجھ پر حرام ہے") سے قسم منعقد ہوگئی تھی۔ پھر جب اولاد کی کمائی کی چیز کھالی  تو قسم ٹوٹ گئی، اور قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہے۔

 قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر ’’جو‘‘  دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے۔ آج کل رقم کے اعتبار سے ایک صدقہ الفطر کی مقدار احتیاطاً 100 روپے ہے۔

یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔ اور اگر  کوئی قسم اٹھانے والا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے، اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے  تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھے۔

3 : جی، یہ قسم ہے۔

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ وَلكِنْ يُؤاخِذُكُمْ بِما عَقَّدْتُمُ الْأَيْمانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعامُ عَشَرَةِ مَساكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمانِكُمْ إِذا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آياتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾(المائدة: 89)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 729):
"(ومن حرم) أي على نفسه ... (شيئا) (ثم فعله) بأكل أو نفقة .. (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 725):
"(وكفارته) هذه إضافة للشرط لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن) فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 714):
"وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201800

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے