بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

”اگر تم نے میرے بھائی کو گلاس میں پانی بھی دیا تو میں تمہیں طلاق دیدونگا“ سے تعلیق طلاق کا حکم


سوال

 اگر کوئی شخص شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ”اگر تم نے میرے بھائی کو گلاس میں پانی بھی دیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا“. 

اب اگر وہ اُس کا کوئی کام کرتی ہے تو کیا طلاق واقع ہوگی یا کوئی اور کفارہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کے الفاظ ”اگر تم نے میرے بھائی کو گلاس میں پانی بھی دیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا“ طلاق کی دھمکی اور وعدہ کے ہیں، اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا اگر عورت اپنے بھائی کا کوئی کام کرے تو اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم شوہر کو آئندہ اس قسم کے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے