بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اگر تم ان لڑکوں کے گھر گئیں تو میں تمہیں واپس نہیں لاؤں گا کہنا


سوال

ایک شخص کی اپنی بیوی کے چچا زاد بھائی سے کچھ چپقلش ہو گئی، شوہر نے بیوی سے کہہ دیا کہ آج کے بعد تم ان لڑکوں کے گھر گئی تو میں تجھے واپس نہیں لاؤں گا، اور ان لڑکوں کی والدہ فوت ہوگئی ہیں، اور 3 دن کے بعد وہ دوسری جگہ شفٹ ہو گئے ہیں، اب اس شخص کی بیوی اِن کے گھر تعزیت کے لیے جا سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر اس کے جانے پر طلاق واقع ہوتی ہے تو کون سی طلاق واقع ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شوہر کے مذکورہ الفاظ: "اگر تم ان لڑکوں کے گھر گئیں تو میں تمہیں واپس نہیں لاؤں گا" سے طلاق چوں کہ معلق نہیں ہوئی ہے، لہذا مذکورہ خاتون اگر تعزیت کے لیے جاتی ہے تو ان الفاظ کی وجہ  سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، تاہم شوہر کو بتائے بغیر نہ جائے، اس کی اجازت سے جائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے