بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اپنی بیوی کے لیے کالا خضاب لگانے کا حکم


سوال

کیا داڑھی پر کالا خضاب کرنا جائز ہے یا نہیں؟  آج کل مارکیٹ میں جو  تیار خضاب ملتا ہے اس کا کیا حکم ہے? بعض حضرات کہتے ہیں کہ چالیس سال سے کم عمر افراد کے بال سفید ہوجائیں تو اس کے لیے گنجائش ہے یا اگر دوسری شادی کی ہو تو بھی لگا سکتے ہیں۔اگر جائز نہیں ہے تو بعض بزرگ علماء جو لگاتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

احادیث مبارکہ میں خالص کالے رنگ کاخضاب لگانے کی ممانعت اور سخت وعیدآئی ہے، لہٰذا خالص کالے رنگ کا خضاب لگانا جائز نہیں ہے۔  "ابوداودشریف " کی روایت میں ہے:

سنن أبي داود (4/ 87)
'' عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يكون قوم يخضبون في آخر الزمان بالسواد، كحواصل الحمام، لا يريحون رائحة الجنة»''۔

''حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماارشادفرماتے ہیں: جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانہ میں کچھ لوگ ہوں گے جوسیاہ خضاب لگائیں گے،جیسے کبوترکاسینہ،ان لوگوں کوجنت کی خوشبوبھی نصیب نہ ہوگی''۔

صرف حالتِ جہاد میں دشمن کو مرعوب رکھنے اور اس کے سامنے جوانی اور طاقت کے اظہار کے لیے کالا خضاب استعمال کرنے کی  اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ  عام حالات میں خالص سیاہ خضاب لگانا جائزنہیں ہے، خالص سیاہ رنگ کے علاوہ کسی بھی رنگ (مثلاً:سرخ، براؤن  یاسیاہی مائل رنگ)کاخضاب لگاسکتے ہیں۔البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بیوی کے لیے تزیین کی نیت سے کالا خضاب لگانے کی گنجائش ہے، لیکن اس قول پر فتویٰ نہیں ہے۔
آپ نے جن علماء کو دیکھا ممکن ہے کہ وہ خالص سیاہ خضاب نہ لگاتے ہوں، رنگ گہرا ہونے کی وجہ سے سیاہ محسوس ہوتاہو، اور اگر وہ خالص سیاہ خضاب لگاتے ہوں تو بھی کسی خاص فرد کا عمل فتوے کی رو سے حجت نہیں بنتا۔ ان علماء کے عمل کی توجیہ انہی سے دریافت کی جاسکتی ہے، ممکن ہے کہ وہ امام ابو یوسف کے قول پر عمل کرتے ہوں، بہرحال ہر انسان اپنے نفس کا مکلف ہے ؛ لہذا ہمارے لیے وہی حکم ہے جو راجح اور مفتی بہ قرار دیا گیا ہے۔  فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 143909201604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں