بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

اولاد کو جائیداد سے عاق کرنا


سوال

اگر کوئی آدمی اپنی اولاد کو جائیداد میں سےعاق کر دیتا ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا والدین کےلیے اپنی اولاد کوجائیدادسے عاق کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس وجہ سے؟

جواب

اپنی اولاد  میں سے کسی کو  اپنی جائے داد  سے  عاق کرناجائز نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے،  اگر کسی نے اپنی اولاد  میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے عاق بھی کردیا تو اس سے وہ  اپنے شرعی حصہ سے محروم نہیں ہوگا، بلکہ شرعی حصہ بدستور اس کو ملے گا۔

مشكاة المصابيح  میں ہے:

’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ‘‘.  (1/266، باب الوصایا، ط: قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200202

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں