بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 شوال 1440ھ- 27 جون 2019 ء

دارالافتاء

 

اوجھڑی کھانے کا حکم


سوال

اوجھڑی کھاناکیسا ہے؟

جواب

حلال جانور کی اوجھڑی کھانا جائز ہے، البتہ اوجھڑی کو خوب پاک وصاف کرکے کھایا جائے۔''امداد الفتاوی'' میں ہے:

'' اوجھڑی کی حلّت اس لیے ہے کہ اس میں کوئی وجہ حرمت کی نہیں ، فقہاء نے اشیائے حرام کو شمار کردیا ہے، یہ ان کے علاوہ ہے، یہ شمار ''درمختار'' کے مسائل شتٰی میں مذکور ہے: ''والغدة، والخصیة والمثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذکر''۔(4/104)

''فتاوی رحیمیہ'' میں ہے:

'' فقہاء نے جانور کی سات چیزوں  کو حرام قراردیا ہے، ان سات چیزوں  میں  اوجھڑی شامل نہیں  ہے ؛ لہذا اسے حلال کہا جائے گا۔۔۔۔''۔ (10/81، ط: دارلاشاعت) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909202089

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے