بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2019 ء

دارالافتاء

 

انگریزی کے لفظ talk کوغلطی سے طلاق پڑھ لینے اور اخبار یا کتاب میں لفظ طلاق پڑھنے کا حکم، طلاق کے وہم کا علاج


سوال

انگریزی کے لفظ talk کو جلدی اور بے دیہانی میں غلطی سے طلاق پڑھ جانے سے کوئی نقصان واقع ہوتا اور طلاق واقع ہوتی ہے؟ کسی اخبار میں طلاق کا لفظ پڑھنے سے یا کسی کتاب میں پڑھنے سے بار بار وہم آنے سے طلاق واقع ہوتی ہے؟ اور اس وہم سے بچنے کا علاج کیا ہے؟

جواب

انگریزی کے لفظ talk کو جلدی اور بے دیہانی میں غلطی سے طلاق پڑھ لینے سے یا کسی اخبار اور کتاب میں لفظ طلاق پڑھ لینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، اس طرح کے وہم اور وساوس کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل بھی دھیان نہ دیا جائے، جتنا اس کے بارے میں سوچیں گے یہ وہم  اور وسوسے اور زیادہ بڑھیں گے، اس کے ساتھ ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ اور ’’اللہم انی اعوذ بک من ھمزات الشیاطین و اعوذ بک رب ان یحضرون‘‘ کثرت سے پڑھا کریں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200067

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں