بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1440ھ- 19 اگست 2019 ء

دارالافتاء

 

انٹر نیٹ کا کام اور اس کی کمائی کا حکم


سوال

میں انٹر نیٹ کی فیلڈ میں کام کرتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ کیا انٹر نیٹ کی کمائی حلال ہے؟  میں لوگوں کے گھروں میں جاتا ہوں!

جواب

اگر آپ کا کام لوگوں کو  صرف انٹر  نیٹ کنکشن فراہم کرنے کا ہے  تو اس طرح انٹرنیٹ کا کام کرنا جائز ہے اور اس کی کمائی حلال ہے، کیوں کہ انٹرنیٹ کا استعمال صحیح اور غلط دونوں مقاصد کے لیے ہوتا ہے؛ لہٰذا اَگر انٹرنیٹ کیبل لے کر اس کا غلط استعمال کیا جائے گاتو اس کا گناہ خود استعمال کرنے والے پر ہوگا، انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والا اس کا ذمہ دار نہ ہوگا، لیکن اگر کوئی اور کام ہے تو  اس کی وضاحت کرکے یا دارالافتاء سے براہِ راست رجوع کرکے جواب حاصل کریں۔ باقی لوگوں کے گھر جاتے وقت نظروں کی حفاطت کا اہتمام ہر حال میں انتہائی ضروری ہے کہ نظر کسی نا محرم خاتون پر نہ پڑے۔

"إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضیف الحکم إلی المباشر". (الأشباه والنظائر۵۰۲جدید، شرح الحموي۴۰۴)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے