بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 رجب 1440ھ- 26 مارچ 2019 ء

دارالافتاء

 

انعامی بانڈ کا شرعی حکم


سوال

پرائز بانڈ  کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہ کرام مجھے آگاہ کیجیے!

 

جواب

پرائز بانڈ کی خرید وفروخت اور اس پر ملنے والا انعام ناجائزا ور حرام ہے،  اس میں سود اور جوا پایا جاتا ہے۔

پرائز بانڈز میں سود کا وجود تو بالکل ظاہر ہے؛  کیوں کہ سود کی حقیقت یہ  ہے کہ مال کا مال کے بدلے معاملہ کرتے وقت ایک طرف ایسی زیادتی مشروط ہو جس کے مقابلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو ،بعینہ یہی حقیقت بانڈز کے انعام میں بھی موجود ہے، کیوں کہ ہر آدمی مقررہ رقم دے کر پرائزبانڈز اس لیے حاصل کرتا ہے کہ اس سے قرعہ اندازی میں نام آنے پر اپنی رقم کے علاوہ  زیادہ رقم مل جائے ،اور یہ زائد اور اضافی رقم سود ہے، کیوں کہ شر یعت میں ایک جنس کی رقم  کاتبادلہ اگر  آپس میں  کیا جائے تو برابری کے ساتھ لین دین کرنا ضروری ہوتا ہے، کمی بیشی کے ساتھ لین دین کرنا سود ہے، اسی طرح سود کی ایک اور حقیقت جو قرآن  کریم کے نازل ہونے سے پہلے بھی سمجھی جاتی تھی  وہ یہ تھی کہ قرض دے کر اس پر نفع لیاجائے ،سود کی یہ تعریف ایک حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے ”کل قرض جر منفعةً فهو ربوا “یعنی ہر وہ قرض جو نفع کمائے وہ سود ہے ،  لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ جو زیادتی قرض کی وجہ سے حاصل ہوئی ہووہ بھی سود میں داخل ہے، اور سود کی یہ حقیقت بانڈز کے انعام پر بھی صادق آتی ہے، کیوں کہ  بانڈز کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے،  حکومت اس قرضہ کو استعمال میں لاتی ہے اور قرضہ کے عوض لوگوں سے ایک مقررہ مقدار میں انعام کا وعدہ کرتی ہے اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے انعامی رقم  کے نام سے سود کی رقم لوگوں میں تقسیم کردی جاتی ہے، جو ناجائز اور حرام ہے۔

اسی طرح پرائزبانڈ ز  میں جوا بھی شامل ہے ، ''جو ا'' جسے عربی زبان میں’’قمار‘‘کہا جاتا ہے در حقیقت ہر وہ معاملہ ہے جس میں’’مخاطرہ ہو‘‘، یعنی قمار کی حقیقت یہ ہے کہ ایسا معاملہ کیا جائے جو نفع ونقصان کے خطرے کی بنیاد  پرہو، اورپرائزبانڈز کے حصہ داران زائد رقم وصول کرنے کی غرض سے رقم جمع کراتے ہیں، لیکن معاملہ قرعہ اندازی اور اس میں نام آنے پر مشروط ہونے کی وجہ سے یہ لوگ خطرے میں رہتے ہیں کہ زائد رقم ملے گی  یانہیں، اس سے واضح ہوا کہ  پرائز بانڈز جوئے اور سود کا مجموعہ ہے ، لہذا پرائز بانڈ ز کی خریدوفروخت کرنااور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا شریعت کی رو سے  ناجائز اور حرام ہے۔

قرآنِ کریم میں ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَل الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]

      شرح معانی الآثار میں ہے:

"عن عمرو بن يثربي، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء إلا بطيب نفس منه»".(2/313، کتاب الکراھۃ، ط: حقانیہ)

حدیث مبارکہ میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» . وقال: «هم سواء»". (الصحیح لمسلم، 3/1219، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ط: دار إحیاء التراث ، بیروت. مشکاة المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

الجامع الصغیر میں ہے:           

  "كل قرض جر منفعةً فهو ربا".(الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

      فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وهو في الشرع عبارة عن فضل مال لا يقابله عوض في معاوضة مال بمال".(3/ 117، کتاب البیوع، الباب التاسع فیما یجوز بیعہ وما لا یجوز، الفصل السادس فی تفسیر الربوٰ واحکامہ، ط: رشدیہ)

      مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".(4/483، کتاب البیوع  والاقضیہ، ط؛ مکتبہ رشد، ریاض)

أحکام القرآن  میں ہے:

"ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار، قال ابن عباس: إن المخاطرة قمار، وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال، والزوجة، وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه".      (احکام القرآن للجصاص، 1/ 398،  باب تحریم المیسر، سورۃ البقرۃ، ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت - لبنان)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: لأنه يصير قماراً)؛ لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص".  (6 / 403، کتاب الحظر والاباحۃ، ط ؛ سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200361


تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں